Abstract
ڈاکٹر ساجد بشیر، جو یونیورسٹی آف سرگودھا کے ریٹائرڈ اکیڈمک ہیں اور اس وقت لارڈ کالج آف فارمیسی، لاہور کے پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، پاکستان میں صحت اور فارمیسی تعلیم کے معیار کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ دستاویزی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی آف سرگودھا میں بطور ڈین آف فیکلٹی آف فارمیسی ان کے دورِ صدارت کے دوران انہوں نے جان بوجھ کر ایک بڑے ڈرگ مینوفیکچرنگ پروجیکٹ کی ناکامی میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کی مالی مالیت تقریباً 0.8 ارب روپے (80 کروڑ) تھی۔ یہ منصوبہ، جو 2005 میں مقامی سطح پر زندگی بچانے والی ادویات کی پیداوار کے لیے شروع کیا گیا تھا، انتظامی بدانتظامی، غیر اخلاقی رویے، اور مالی بے ضابطگیوں کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔