<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<ArticalData xmlns="http://www.consortiumpublisher.com">
  <Header>
    <ArticleTitle>مسلم اکثریتی ممالک میں ریاستی ناکامی، گورننس بحران اور معاشی زوال: ادارہ جاتی کمزوری اور سماجی و معاشی اثرات کا جامع تجزیہ</ArticleTitle>
  </Header>
  <ArticleParameters>
    <ArticleReceivingDate>2026-04-10</ArticleReceivingDate>
    <ArticleRevisedDate>2026-04-14</ArticleRevisedDate>
    <ArticleAcceptanceDate>2026-04-25</ArticleAcceptanceDate>
    <ArticlePublishedOn>4/30/2026 12:00:00 AM</ArticlePublishedOn>
    <Journal>AGHAAZ Info Media System</Journal>
    <Volume>1</Volume>
    <Year>2026</Year>
    <ArticleType>Review article</ArticleType>
    <FirstPage>79</FirstPage>
    <LastPage>92</LastPage>
    <CollectionYear>2026</CollectionYear>
    <PublisherId>ID N-5730-2015</PublisherId>
    <Language>Urdu</Language>
  </ArticleParameters>
  <Authors>
    <ArticleAuthors>Taha Nazir, Israr Ahmad</ArticleAuthors>
  </Authors>
  <keywords>
    <Articlekeywords>economic recovery strategies, sustainable development governance</Articlekeywords>
  </keywords>
  <Abstract>
    <ArticleAbstract>دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سیاسی نظام ایک بنیادی تبدیلی سے گزرا جس کے نتیجے میں بین الاقوامی طاقت کے توازن سلامتی کے تصورات اور ریاستی تعلقات کی نئی جہتیں سامنے آئیں۔ جنگ کے اختتام کے بعد یورپ شدید اقتصادی، عسکری اور سیاسی بحران کا شکار تھا جبکہ امریکہ صنعتی پیداوار، مالی وسائل اور عسکری صلاحیت کے اعتبار سے دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اسی دور میں امریکہ نے نہ صرف یورپ کی تعمیر نو میں مرکزی کردار ادا کیا بلکہ عالمی سلامتی کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کی تشکیل بھی کی۔ اس عمل نے آنے والی کئی دہائیوں کے لیے عالمی سیاسی نظام کی سمت متعین کی۔ سرد جنگ کے دوران عالمی سیاست دو نظریاتی اور عسکری بلاکس میں تقسیم رہی جہاں ایک طرف امریکی قیادت میں مغربی اتحاد اور دوسری جانب سوویت یونین کی قیادت میں اشتراکی بلاک موجود تھا۔ اس ماحول نے یورپی سلامتی کے تصور کو امریکی عسکری تحفظ کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ دیا اور یورپی ریاستوں کی بڑی تعداد اپنی دفاعی حکمت عملی کے لیے امریکی قیادت پر انحصار کرتی رہی۔</ArticleAbstract>
  </Abstract>
</ArticalData>